بیلگاوی 8 / دسمبر (ایس او نیوز) بیلگاوی میں جاری اسمبلی کے سرمائی سیشن کے دوران اتر کنڑا میں سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل کا مسئلہ سامنے آیا مگر ضلع کے اراکین اسمبلی متحدہ طور پر کسی ایک مقام پر ہاسپٹل کے قیام کا مطالبہ کرنے کے بجائے تقریباً ہر ایک ایم ایل اے نے اپنے علاقے میں سوپر اسپیشالٹی اسپتال قائم کرنے کی مانگ رکھی ۔
کاروار کے رکن اسمبلی ستیش سئیل نے کہا کہ اتر کنڑا کے لئے سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل ہر حالت میں ضروری ہے ۔ اس لئے فی الحال یہ سہولت کاروار میں فراہم کی جائے ، پھر اس کے بعد ضلع کے کسی دوسرے مقام پر یہ ہاسپٹل قائم کیا جا سکتا ہے ۔ ستیش نے کہا کہ گوا میں آیوشمان بھارت اسکیم لاگو نہیں ہوتی ۔ مریضوں کو منگلورو لے جانے پر مناسب علاج کے بغیر انہیں یونہی واپس لانے کی صورتحال پیدا ہوتی ہے ۔ اس طرح ضلع کے عوام کو دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔
ستیش سئیل کی بات سے سخت اختلاف کرتے ہوئے کمٹہ کے رکن اسمبلی دینکر شیٹی نے کہا کہ سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل کمٹہ میں ہی تعمیر ہونا چاہیے ۔ اس بارے میں پہلے ہی ایک مرتبہ فیصلہ ہو چکا ہے ۔ ہاسپٹل کے لئَ جگہ کی نشاندہی بھی کی جا چکی ہے ۔ اُس وقت سب کی طرف سے منظوری مل گئی تھی ۔ ضلع کے تمام لوگوں کو یہاں آنے کے لئے سہولت ہوتی ہے ۔ اس لئے کمٹہ میں ہی یہ ہاسپٹل قائم ہونا چاہیے ۔
اس پر سرسی کے ایم ایل اے بھیمنّا نائک نے اپنی آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں سرسی کا علاقہ بہت وسیع ہے ۔ اس لئے سرسی میں سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل قائم کیا جائے ۔ اس کے جواب میں یلاپور کے ایم ایل اے شیو رام ہیبار نے بڑے اصرار کے ساتھ کہا کہ گھاٹ کے اوپری حصے میں ایک اور نشیبی علاقے میں ایک سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کو پورا کیا جانا چاہیے ۔ اس طرح ہر رکن اسمبلی نے اپنے علاقے میں سوپر اسپیشالٹی اسپتال کا مطالبہ سامنے رکھا ۔
ان سب باتوں کو جواب دیتے ہوئے وزیر برائے طبی تعلیم شرن پرکاش پاٹل نے کہا کہ اتر کنڑا میں بہت دنوں سے سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل کی مانگ کی جا رہی ہے ۔ اس لئے کاروار انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس کے احاطے میں تعمیر ہونے والے 450 بستر والے ضلع اسپتال کو سوپر اسپیشالٹی اسپتال میں تبدیل کرنے کی مانگ حکومت کے لئے قابل قبول ہے اور اس وقت اس تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ تب تک مریضوں کو کاروار میڈیکل کالج میں سوپر اسپیشالٹی خدمات فراہم کرنے کے مقصد سے 4 ماہر ڈاکٹر اور 3 اسسٹنٹ چیف میڈیکل آفیسرس سمیت 7 عہدوں کے لئے درخواستیں طلب کرتے ہوئے 2 مرتبہ انٹرویو رکھے گئے تھے مگر کوئی بھی اسامی انٹرویو کے لئے حاضر نہیں ہوئی ۔ اب پھر ایک مرتبہ ان عہدوں کی بھرتی کے لئے انٹرویو رکھے جائیں گے ۔
اس بحث کے دوران اسپیکر یو ٹی قادر نے کہا کہ کاروار سے منگلورو تک مریضوں کے لئے ایک بھی ٹراما سینٹر موجود نہ ہونا واقعی افسوسناک صورتحال ہے ۔ اس سے پہلے سرحدی اضلاع کے مریضوں کو سرحدی ریاستوں میں آیوشمان بھارت کی سہولت دستیاب ہو رہی تھی ۔ اب گوا میں یہ سہولت کیوں بند کر دی گئی ہے اس بارے میں وزیر برائے طبی تعلیم کو توجہ دینا چاہیے ۔